LIVE
Loading Breaking News...

کینٹربری کے آرچ بشپ کا مسلم عالم سے ایوارڈ واپس لینے کا فیصلہ

News Image
کینٹربری کے آर्च بشپ نے ایک ایسے مسلم عالم سے ایوارڈ واپس لے لیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کی تعریف کی تھی۔ یہ متنازع ایوارڈ نائن الیون کے حملوں کی برسی کے موقع پر دیا گیا تھا جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
کینٹربری کے آرچ بشپ نے ایک انتہائی متنازع اقدام پر سخت تنقید کے بعد اس مسلم عالم سے اپنا دیا گیا ایوارڈ واپس لے لیا ہے جنہوں نے ماضی میں اسامہ بن لادن کی تعریف کی تھی۔ یہ ایوارڈ گزشتہ ہفتے نائن الیون کے تباہ کن حملوں کی برسی کے موقع پر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں اور خاص طور پر برطانوی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس اعزاز کی تقسیم پر متعدد حلقوں کی جانب سے کینٹربری کے آرچ بشپ پر کڑی نکتہ چینی کی گئی کہ انہوں نے ایسے شخص کو منتخب کیا جس کے خیالات انتہائی انتہا پسندانہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس تنقید کے پیش نظر، کلیسائے انگلینڈ اور متعلقہ حکام نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیا اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد ایوارڈ واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو سراہتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے متنازع اقدامات سے بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچتا ہے، لہٰذا اس غلطی کی تلافی ناگزیر تھی۔ آرچ بشپ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ایوارڈ دینے کے اس عمل میں سنگین غلطی ہوئی تھی جسے اب درست کر لیا گیا ہے۔ اس پوری صورتحال نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ دنیا بھر میں شخصیات کے انتخاب اور ان کی ماضی کی خدمات یا بیانات کی جانچ پڑتال انتہائی سختی کے ساتھ کی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار تنازع سے بچا جا سکے۔