World
روسی انتخابات میں یونائیٹڈ رشیا کو اپوزیشن کا چیلنج
روس میں سال 2022 کے بعد پہلی بار عوام اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔ کیا اس الیکشن میں اپوزیشن جماعتیں صدر ولادیمیر پیوٹن کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو کوئی بڑا ٹکر دے سکیں گی؟
روس میں سال 2022 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شہری اہم بلدیاتی اور علاقائی انتخابات کے لیے اپنے ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت کے ساتھ زیر بحث ہے کہ کیا روایتی اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتیں صدر ولادیمیر پیوٹن کی حامی حکمراں جماعت 'یونائیٹڈ رشیا' کو ایک مؤثر اور حقیقی چیلنج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں۔ ماہرینِ سیاسیات کے مطابق روسی سیاسی منظر نامے میں حکمران جماعت کو ہمیشہ سے برتری حاصل رہی ہے اور ریاستی مشینری کا اثرورسوخ بھی ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ یوکرین تنازع اور مغربی پابندیوں کے بعد پیدا ہونے والی معاشی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں عوام کے اندر کچھ تحفظات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹرز کے اس طبقے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو موجودہ پالیسیوں سے کسی حد تک ناخوش ہیں۔ تاہم، سخت سیاسی ضوابط اور انتخابی عمل پر حکمران طبقے کے گہرے کنٹرول کی وجہ سے اپوزیشن کے لیے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کرنا روایتی طور پر ایک مشکل ترین ہدف رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ حریف جماعتیں یونائیٹڈ رشیا کو اقتدار سے مکمل طور پر باہر کرنے کی پوزیشن میں شاید دکھائی نہ دیں، لیکن مقامی سطح پر چند مخصوص حلقوں میں ان کی کارکردگی مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج اس بات کا اشارہ ہوں گے کہ روسی عوام حالیہ جیو پولیٹیکل تبدیلیوں اور اندرونی چیلنجز کے درمیان حکمران قیادت کو کس حد تک سپورٹ جاری رکھتے ہیں۔ پولنگ کے نتائج آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا روس کے سیاسی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی ہلچل پیدا ہوئی ہے یا نہیں، اور الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کے اعلان کا سلسلہ آنے والے دنوں میں مکمل ہوگا۔