LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب کے لیے ایف 35 طیاروں کی فروخت کی منظوری

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سعودی عرب کو جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کی حتمی منظوری کے لیے اب امریکی کانگریس کی اجازت درکار ہوگی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک اہم دفاعی فیصلے کے تحت سعودی عرب کو جدید ترین ایف 35 (F-35) لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاض حکومت یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری تنازعے اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن سے مسلسل تعاون کی خواہاں ہے۔ اس مجوزہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کو خطے میں اپنی فضائیہ کو مزید جدید بنانے کا موقع ملے گا تاہم اس بڑے معاہدے کے عملی جامہ پہننے سے پہلے امریکی کانگریس کی باضابطہ منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس دفاعی معاہدے کو واشنگٹن اور ریاض کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں ایک نیا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایف 35 طیاروں کی فراہمی سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور وہ خطے کے ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے گا۔ دوسری جانب امریکی کانگریس میں اس ڈیل پر بحث اور گرما گرم بحث متوقع ہے کیونکہ ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر قانون سازوں کی طرف سے کڑی جانچ پڑتال کی جاتی رہی ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے اپنے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں امریکی ساختہ جنگی ساز و سامان کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ یمن کے محاذ پر حوثی باغیوں کی جانب سے درپیش فضائی اور میزائل حملوں کے پس منظر میں ریاض کو اپنی فضائی حدود کے دفاع کے لیے مزید مؤثر دفاعی ڈھانچے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی کانگریس اس حساس معاہدے کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور آیا اس کی راہ میں کوئی سیاسی رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں یا نہیں۔ اس پیش رفت سے خلیجی خطے کے مجموعی امن و سلامتی اور طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔