World
پنسلوانیا میں خسرہ کی اموات پر تنازع اور سی ڈی سی کی مدد
امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں خسرہ کے پھیلاؤ اور چار اموات کی کلاسیفیکیشن پر وفاقی اور ریاستی حکام کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ اس تنازع کے بعد ریاستی حکام نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے سی ڈی سی سے باضابطہ مدد طلب کر لی ہے۔
امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں خسرہ کی بیماری کے تیزی سے پھیلنے والے کیسز اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی درجہ بندی کے حوالے سے ایک سنگین تنازع سامنے آیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے اور ابہام کو دور کرنے کے لیے ریاستی حکام نے بالاخر وفاقی ادارے 'سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن' یعنی سی ڈی سی سے باضابطہ طور پر مدد طلب کر لی ہے۔ اس وقت ریاست میں صحت کا شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ ڈاکٹرز اور حکام اس بات پر متفق نہیں ہو پا رہے ہیں کہ خسرہ سے ہونے والی اموات کو کس طرح سرکاری طور پر ریکارڈ اور کلاسیفائی کیا جائے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پنسلوانیا میں خسرہ کے پھیلاؤ کے دوران چار اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن کی نوعیت اور وجوہات پر مقامی طبی عملے اور وفاقی طبی ماہرین کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ریاستی حکام کا مؤقف ہے کہ ان اموات کی تکنیکی وجوہات کو سمجھنے کے لیے مزید گہرائی سے تحقیقات کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری جانب سی ڈی سی کے معیارات کے مطابق ان کیسز کی درجہ بندی کا طریقہ کار کچھ مختلف ہے۔ اسی پالیسی اور طریقہ کار کے فرق کی وجہ سے اعداد و شمار میں واضح تفاوت پایا جا رہا ہے، جس سے عوام میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سی ڈی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ پنسلوانیا کے محکمہ صحت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ وفاقی ماہرین کی ٹیمیں اس بات کا جائزہ لیں گی کہ آیا یہ اموات براہ راست خسرہ کی وجہ سے ہوئیں یا اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی دیگر طبی پیچیدگیاں تھیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تنازع کا جلد حل ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ ویکسینیشن مہم کو مزید تیز کیا جا سکے اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے کیونکہ خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے۔
پنسلوانیا کے اسپتالوں میں اس وقت ہنگامی صورتحال جیسی کیفیات ہیں اور ڈاکٹرز والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی بروقت ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔ صحت عامہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تنازعات سے بچنے کے لیے سائنسی ڈیٹا کو شفاف انداز میں سامنے لانا ناگزیر ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سی ڈی سی کی مداخلت سے نہ صرف اموات کی درجہ بندی کا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ ریاست کو خسرہ کے اس موجودہ پھیلاؤ پر قابو پانے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔