World
اقوام متحدہ میں برازیل کی پہلی تقریر کی تاریخ اور وجوہات
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں برازیل کو ہمیشہ بحث کا آغاز کرنے کا پہلا موقع ملتا ہے۔ یہ روایت کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے اور اس کی تاریخی اور سفارتی وجوہات ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے ہر سال ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دنیا بھر کے صدور، وزرائے اعظم اور سفارت کار جمع ہوتے ہیں۔ اس اہم اجتماع کی ایک طویل روایت یہ ہے کہ بحث کا آغاز ہمیشہ برازیل کے نمائندے کی تقریر سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ دنیا کے دیگر طاقتور ممالک کے بجائے صرف برازیل کو ہی یہ منفرد اعزاز کیوں حاصل ہے؟ اس روایت کی جڑیں اقوام متحدہ کی ابتدائی تاریخ اور سفارتی اصولوں میں پیوست ہیں۔
سنہ 1945 میں جب اقوام متحدہ کا ادارہ قائم ہوا اور اس کی جنرل اسمبلی کے اجلاس شروع ہوئے، تو ابتدائی سالوں میں کسی بھی ملک کے لیے یہ طے نہیں تھا کہ بحث کا آغاز کون کرے گا۔ اس وقت دنیا جنگ کے اثرات سے نکل رہی تھی اور تنظیم کے ابتدائی ایام میں یہ مسئلہ درپیش تھا کہ اتنے بڑے عالمی فورم پر سب سے پہلے بولنے کے لیے کون سا ملک آگے آئے۔ چونکہ کوئی بھی ملک یا بڑی طاقت اس ذمہ داری کو سب سے پہلے اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھی اور اس حوالے سے نامزدگی کا کوئی باضابطہ ضابطہ موجود نہیں تھا، لہذا ایک غیر رسمی روایت نے جنم لیا۔
اس غیر رسمی روایت کو آگے بڑھانے میں برازیل نے رضاکارانہ طور پر ایک جرأت مندانہ قدم اٹھایا۔ برازیل کے مندوبین نے ابتدائی اجلاسوں میں سب سے پہلے خطیب کے طور پر بولنے کی ذمہ داری قبول کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رضاکارانہ اقدام ایک پکی روایت اور پھر ایک غیر تحریری اصول کی شکل اختیار کر گیا۔ آج کے دور میں، اگرچہ اقوام متحدہ میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور دنیا کا سیاسی نقشہ بھی بدل چکا ہے، لیکن برازیل کا یہ استحقاق عالمی سطح پر احترام کی علامت بن چکا ہے اور تمام رکن ممالک اس تاریخی روایت کا احترام کرتے ہیں۔
اس روایت کے علاوہ، سفارتی حلقوں میں یہ بھی مانا جاتا ہے کہ برازیل ایک ایسا ملک ہے جو مشرق اور مغرب، شمال اور جنوب کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ لاطینی امریکہ کے اس سب سے بڑے ملک کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے متوازن رہی ہے، جو کسی بھی مخصوص بلاک کا حصہ بنے بغیر عالمی امن اور تعاون کی بات کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے فورم پر برازیل کو سب سے پہلے بولنے کا موقع دینا نہ صرف ایک پرانی روایت کی پاسداری ہے، بلکہ عالمی برادری کی طرف سے اس ملک کے معتدل اور پرامن کردار کا اعتراف بھی ہے۔