LIVE
Loading Breaking News...

زاپوریজিয়া پلانٹ: گرین پیس کا روس پر بجلی کی لائنیں سبوتاژ کرنے کا الزام

News Image
ماحولاتی تنظیم گرین پیس کی نئی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس زاپوریজিয়া نیوکلیئر پاور پلانٹ کی بجلی کی ترسیلی لائنوں کو جان بوجھ کر سبوتاژ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین کے حملوں کے روسی دعوے بے بنیاد ہیں اور اس کا کوئی شواہد نہیں ملا۔
عالمی ماحولاتی تنظیم گرین پیس نے اپنی ایک تازہ ترین اور اہم تحقیقاتی رپورٹ میں روس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ روسی حکام یوکرین کے زاپوریজিয়া ایٹمی پاور پلانٹ کی بجلی کی ترسیلی اور سپلائی لائنوں کو منظم طریقے سے سبوتاژ کرنے میں ملوث ہیں۔ اس عمل سے یورپ کے اس سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کی سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ماسکو کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ پلانٹ پر ہونے والے حملے یوکرین کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، گرین پیس کے ماہرین اور تفتیش کاروں نے جب ان تمام شواہد اور واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو انہیں روس کے ان دعوؤں کی تائید میں ایک بھی قابلِ ذکر ثبوت نہیں مل سکا۔ تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ پلانٹ کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے پیچھے دراصل روسی اقدامات کارفرما ہیں۔ ماہرینِ انرجی اور جوہری سلامتی سے وابستہ افراد نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زاپوریজিয়া ایٹمی پاور پلانٹ کو مسلسل تنازعہ کی زد میں رکھنا پوری دنیا کے لیے ایک خوفناک خطرہ ہے۔ اگر بجلی کی ترسیل کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں جوہری فیول کو ٹھنڈا رکھنے کا نظام ناکام ہو سکتا ہے، جس سے تابکاری کے اخراج کا شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ گرین پیس نے عالمی برادری اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پلانٹ کو جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنے اور اس کی بجلی کی لائنوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو رکوانے کے لیے روس پر سخت بین الاقوامی دباؤ ڈالا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ ایٹمی المیے سے بچا جا سکے۔