LIVE
Loading Breaking News...

وزیر اعظم شہباز شریف لندن کے راستے نیویارک پہنچ گئے، اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کریں گے

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس میں شرکت سے قبل دو روزہ قیام کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں۔ وہ 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات کے روز دو روزہ قیام کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں، جہاں سے وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر نیویارک روانہ ہوں گے۔ وزیراعظم آفس کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہفتے کے روز امریکہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کے 27 یا 28 ستمبر کو ملک واپس پہنچنے کا امکان ہے، اور واپسی پر بھی وہ لندن میں ایک یا دو دن قیام کریں گے۔ پاکستان سے امریکہ تک کا طویل سفر مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے لندن میں قیام کا فیصلہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ اس اہم دورے کے دوران وہ سائیڈ لائنز پر مختلف ممالک کے سربراہان سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے اور متعدد اعلیٰ سطح کے اجلاسوں اور تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔ نیویارک کے اس دورے میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے علاقائی اور عالمی صورتحال پر پاکستان کا موقف کھل کر پیش کریں گے اور عالمی فورم پر ملک کی ترجیحات اجاگر کریں گے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کا سرکاری موضوع 'اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک ایسا اقوام متحدہ جو سب کے لیے ڈیلیور کرے' رکھا گیا ہے۔ جنرل اسمبلی کا عام مباحثہ 22 سے 26 ستمبر تک جاری رہنے کی توقع ہے جبکہ اس کا آخری اجلاس 28 ستمبر کو ہوگا۔ اس اجلاس کے دوران دنیا بھر کے رہنماؤں کی توجہ مختلف عالمی اور علاقائی مسائل پر مرکوز رہے گی جن میں سلامتی اور خطے کے استحکام کے امور سرفہرست ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے اس دورے کا مقصد عالمی برادری کو پاکستان کے امن کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کرنا ہے۔ دورے کے دوران پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے، جس سے پاکستان کے سفارتی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔