Politics
پاکستان اور چین باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں منعقد
اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس کامیابی سے منعقد ہوا۔ دونوں ممالک نے بارڈر مینجمنٹ، تجارت اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے مستقبل کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔
اسلام آباد میں پاک چین باؤنڈری جوائنٹ کمیشن (بی جے سی) کا پہلا تاریخی اجلاس اختتام پذیر ہو گیا ہے جس میں دونوں برادر ممالک نے باہمی اتفاق رائے کا بھرپور اعادہ کرتے ہوئے مستقبل میں تعاون کے ایک مؤثر فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ دو روزہ اجلاس 16 اور 17 ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا، جو اس کمیشن کا باضابطہ آغاز تھا۔ اس کمیشن کی بنیاد 2013 کے پاک چین معاہدے برائے باؤنڈری مینجمنٹ سسٹم کے تحت رکھی گئی تھی اور اس کے قیام کو دونوں ممالک کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران سرحدی انتظام، کراس بارڈر کوآرڈینیشن، سامان اور افراد کی نقل و حرکت، مشترکہ سرحدی سروے اور عوامی سطح پر رابطوں سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (چین) بلال محمود چوہدری نے کی جبکہ چینی وفد کی قیادت چینی وزارت خارجہ کے ڈیپارٹمنٹ آف باؤنڈری اینڈ اوشن افیئرز کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی یا نے کی۔ اس اہم اجلاس میں دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ، دفاع، داخلہ، تجارت، مواصلات اور کسٹم سمیت سرحدی انتظام سے متعلق دیگر محکموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اس کمیشن کا پس منظر 2013 میں طے پانے والا وہ معاہدہ ہے جو سابق چینی وزیر اعظم کی اسلام آباد آمد پر طے پایا تھا، جس کے آرٹیکل 45 کے تحت اس جوائنٹ کمیشن کے قیام کی توثیق کی گئی تھی۔ اس میکانزم کا مقصد سرحد پر عملی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے، جس میں سرحد کی دیکھ بھال، معائنہ، مشترکہ سروے، باؤنڈری مارکر کے مسائل اور سرحدی واقعات سے نمٹنے کے امور شامل ہیں۔ اس کی فعالیت سے پاکستان اور چین کے درمیان خنجراب پاس اور سی پیک سے جڑی تجارت اور نقل و حرکت کو مزید ریگولیٹ کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ دونوں فریقین نے اگلا اجلاس چین میں منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔