Politics
سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنما مختصر حراست کے بعد رہا
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے حراست میں لینے کے چار گھنٹے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ جماعت کے دیگر رہنما بھی اس دوران زیر حراست رہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ وہ مختصر حراست کے بعد رہا کر دیے گئے ہیں۔ اس سے قبل ان کی جماعت نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اسلام آباد پولیس نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق سلمان اکرم راجہ اور لتاصب ستی سمیت دیگر افراد کو اس وقت پکڑا گیا جب وہ کوٹلی ستیاں ایک کارکن کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف بیانات سامنے آئے جن میں پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا گیا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو نیلور پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی کا بنیادی مقصد رہنماؤں اور کارکنوں کو مرحوم اعجاز ستی کے جنازے میں شرکت سے روکنا تھا۔ بعد ازاں، سلمان اکرم راجہ نے اپنی ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ انہیں، لتاصب ستی اور دیگر ساتھیوں کو چار گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خوف کی وجہ سے فیصلہ سازوں کا شعور اور عقل سلب ہو چکی ہے اور ملک میں بنیادی حقوق بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ادھر، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس مبینہ گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران پارٹی کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اراکینِ اسمبلی کے خلاف بھی وارنٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس غیر قانونی سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ دوسری جانب، یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی ملک بھر میں احتجاجی تحریک اور سیاسی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے پیش نظر جڑواں شہروں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔