World
پاکستان کا اقوام متحدہ میں ایران پابندیوں کی قرارداد پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران سے متعلق پیش کی جانے والی ایک قرارداد پر ووٹنگ کے دوران پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے ووٹ نہیں ڈالا۔ روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد یہ قرارداد مسترد کر دی گئی۔
اقوام متحدہ میں جمعرات کے روز ایک اہم پیش رفت کے دوران پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایران پابندیوں کی کمیٹی کی معاونت کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع سے متعلق امریکی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانبدار رہا۔ امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کو چین اور روس کی مخالفت اور ویٹو کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے روس اور چین نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جس سے یہ مؤثر طور پر مسترد ہو گئی، جبکہ پندرہ رکنی کونسل کے گیارہ اراکین نے اس کی حمایت کی جن میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس بھی شامل تھے، اور دو اراکین بشمول پاکستان نے اس عمل سے دوری اختیار کی۔ اس قرارداد پر بحث کے دوران کونسل کے اندر ایران کے جوہری مسئلے پر گہرے اختلافات کھل کر سامنے آئے، خاص طور پر جے سی پی او اے اور 2015 کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت معطل شدہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کے لیے 'اسنیپ بیک' میکانزم کے نفاذ کے تنازع پر تمام فریق منقسم دکھائی دیے۔ چین اور روس نے قانونی اور طریقہ کار کے اعتبار سے اسنیپ بیک میکانزم کی مخالفت کو ایک بار پھر دہرایا، جس کی وجہ سے اس مسودے کا مسترد ہونا پہلے ہی متوقع تھا۔ پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موقع پر اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ ایران کا جوہری مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے اور کونسل 2015 کی قرارداد 2231 کے آغاز میں طے پانے والے تعاون اور پرامن حل کے جذبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام بقایا مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت ہی سب سے بہترین رہنما اصول ہونے چاہئیں۔ امریکی مسودے کا مقصد ماہرین کے پینل کی مدت ستمبر 2027 تک بڑھانا تھا اور پینل کو پابندیوں سے متعلق اقدامات کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے تجاورض دینے، اپنی کارکردگی کی سہ ماہی رپورٹیں اور سلامتی کونسل کو سالانہ رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ پینل 2010 میں اقوام متحدہ کی قرارداد 1929 کے تحت قائم کیا گیا تھا جو ایران پر عائد کردہ اقدامات کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے اور کونسل کو اپنی رپورٹس پیش کرتا ہے۔ پینل کی مدت ستائیس ستمبر کو ختم ہونا تھی۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ جوہری مسئلے کو محاذ آرائی کی بجائے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس بھی پاکستان نے کونسل پر زور دیا تھا کہ قرارداد 2231 میں تکنیکی توسیع کے ذریعے سفارت کاری کو مزید وقت دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ غیر محاذ آرائی اور تعاون پر مبنی طرز عمل سے دیرپا حل کی راہ ہموار ہوتی۔ پاکستان نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا اور اسے تحفظاتی معاہدوں کے نفاذ کا ذمہ دار تکنیکی ادارہ قرار دیا۔ پاکستان نے فریقین پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور ایک بار پھر سنجیدہ سفارتی مذاکرات کی میز پر واپس آئیں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔