Technology
پنجاب اسمبلی میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس کا جائزہ
پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 13 نے سرکاری خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کی پہلی پارلیمانی کمیٹی ہے جو خصوصی طور پر اے آئی اور ڈیجیٹل گورننس کا مینڈیٹ رکھتی ہے۔
لاہور: پنجاب اسمبلی نے سرکاری خدمات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل گورننس کا باضابطہ پارلیمانی جائزہ شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی نمبر 13 نے اپنے پہلے اجلاس میں عوامی خدمات میں اے آئی کے استعمال اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس کو پاکستان اور خطے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ جنوبی ایشیا کی پہلی ایسی پارلیمانی کمیٹی ہے جس کا مخصوص مینڈیٹ صرف مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس کی نگرانی کرنا ہے۔
اجلاس سے قبل اسلام آباد میں تین روزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کا اہتمام یو این ڈی پی پاکستان اور برطانیہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے نے کیا تھا۔ اس ورکشاپ میں اراکینِ اسمبلی کو مصنوعی ذہانت، اس کے ممکنہ فوائد اور خطرات کے علاوہ ذمہ دارانہ گورننس کے اصولوں سے آگاہ کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے پنجاب میں اے آئی کے نفاذ کے لیے ایک ابتدائی پارلیمانی انکوائری پروگرام کا خاکہ تیار کیا ہے جس کی بنیادی ترجیحات میں شفافیت، احتساب، شہریوں کے حقوق، ڈیٹا سیکیورٹی اور موثر انسانی نگرانی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
ابتدائی مرحلے میں صوبے کے دو اہم پبلک سروس سسٹمز کو جانچ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ پہلا نظام پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا اے آئی پر مبنی ای چالان سسٹم ہے، جس کی درستگی، انسانی تصدیق کے طریقہ کار، شہریوں کو شواہد تک رسائی اور ڈیٹا مینجمنٹ کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ دوسرا شعبہ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری (PSER) سے منسلک فلاحی امداد اور رجسٹریشن کا نظام ہے، جس میں اعداد و شمار کی درستی، اہلیت کے تعین اور غلط فیصلوں کے خلاف اپیل کے حقوق پر غور کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ حقائق کی بنیاد پر یہ معلوم کرے گی کہ آیا فیصلوں میں واقعی مصنوعی ذہانت کا استعمال ہو رہا ہے یا یہ روایتی اصولوں پر مبنی ہیں۔
اس کے علاوہ کمیٹی کے اجلاس میں ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے آئینی اور قانونی اثرات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان معاملات میں ڈیجیٹل نقصانات، ڈیپ فیکس، جمہوری اعتماد کے لیے خطرات، خواتین اور کمزور طبقات کو لاحق خدشات کے ساتھ ساتھ ڈیٹا گورننس اور ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے امور زیرِ غور آئے۔ اس اقدام سے صوبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو مزید شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے گا۔