LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان بار کونسل کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سخت ردعمل

News Image
پاکستان بار کونسل نے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اور بے پناہ اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مہنگائی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ وکلا تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر وزراء اور اعلیٰ حکام کے شاہانہ اخراجات اور مفت سہولیات ختم کر کے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرے۔
اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی اور رولز کمیٹی کا ایک اہم مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے بے پناہ اضافے کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کے طوفان کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں، بالخصوص مڈل اور لوئر مڈل کلاس طبقے کے لیے جینا محال ہو چکا ہے۔ اجلاس کی صدارت پی بی سی کے وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین منیر احمد ملک نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔ قرارداد میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ فیول کی قیمتوں میں روزانہ کا اضافہ عوام میں شدید مایوسی اور بے چینی کا سبب بن رہا ہے جس سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان بار کونسل کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے اور غریب عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر وزراء، سرکاری افسران اور دیگر مراعات یافتہ طبقے کو حاصل غیر ضروری مراعات، پرتعیش پیکجز، مفت فیول کی سہولیات، سرکاری گاڑیوں کے بے دریغ استعمال اور دیگر ناجائز اخراجات کو بند کرے۔ پی بی سی کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ حکومت کو فیول کی قیمتوں کے کنٹرول اور عام شہریوں کو براہ راست ریلیف کی فراہمی کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ اس طرح کے فیصلوں سے دیہاڑی دار طبقے، روزانہ کمانے والوں اور چھوٹے کاروباروں پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔ وکلا برادری نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ عوام کی مشکلات کا احساس کرے اور ملک کو اس معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے سنجیدہ پالیسیاں تشکیل دے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں، رکشاؤں اور 800cc تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ایک ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ بیس لیٹر کوٹے پر سو روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی جبکہ آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو تیس لیٹر کے ماہانہ کوٹے پر یہی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ تاہم پاکستان بار کونسل کا مؤقف ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں اس قسم کے محدود اقدامات ناکافی ہیں اور ملک گیر سطح پر جامع ریلیف کی ضرورت ہے۔