World
ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن کا دورہ کابل
ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن نے دوطرفہ تعلقات اور سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے کابل کا دورہ کیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی دورے میں قطری سکیورٹی حکام بھی افغان طالبان قیادت کے ساتھ اہم مذاکرات میں شریک رہے ہیں۔
ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور اہم سلامتی کے امور پر بات چیت کے لیے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا ایک اہم دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا تاکہ ترکیہ اور افغانستان کے درمیان تعاون کو نئے خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ترک انٹیلی جنس چیف کے اس دورے کی سفارتی حلقوں میں بڑی اہمیت محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ ترکیہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
کابل میں ہونے والی ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ترکیہ کے ساتھ ساتھ قطری سکیورٹی حکام بھی شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق قطری نیشنل سکیورٹی کونسل کے وفد اور ترک عہدیداروں نے افغان طالبان کی عبوری حکومت کے اہم رہنماؤں بالخصوص وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور دیگر سکیورٹی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی اور سلامتی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا تھا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور قطر کا مشترکہ طور پر کابل کا دورہ کرنا اس بات کا غماز ہے کہ دونوںممالک خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ افغان حکام نے اس موقع پر مہمان وفود کا خیرمقدم کیا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس دورے سے امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ترکیہ اور افغانستان کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سکیورٹی شعبوں میں رابطے مزید مستحکم ہوں گے۔