World
آسٹریلیا کا نیا امیگریشن پلان اور ویزا پالیسی میں سخت ترامیم
آسٹریلیا نے امیگریشن نظام میں سخت اصلاحات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بین الاقوامی طلباء اور بیک پیکرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نئی پالیسی میں ویزا کی مدت پوری ہونے کے بعد رکنے والوں کے لیے حراستی مراکز کا قیام اور بیلٹ کا نظام شامل ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے ملک میں امیگریشن کے نظام کو مزید سخت اور منظم بنانے کے لیے ایک جامع نئے پلان کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کا بنیادی ہدف بین الاقوامی طلباء اور بیک پیکرز ہیں، جن کے لیے ویزا کے حصول اور قیام کے ضوابط کو کافی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق، ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ہاؤسنگ کے بحران کے پیش نظر یہ سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہو چکے تھے تاکہ امیگریشن کے بہاؤ کو اعتدال پر لایا جا سکے۔
نئے پلان کے تحت بین الاقوامی طلباء پر یہ پابندی بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے شریکِ حیات اور بچوں کو آسٹریلیا نہیں لا سکیں گے۔ اس کے علاوہ، بیک پیکرز کے لیے ایک نیا 'بیلوٹ' یعنی قرعہ اندازی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے ذریعے محدود تعداد میں لوگوں کو ویزا جاری کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے ملک میں غیر ضروری نقل و حرکت کو روکا جا سکے گا اور لیبر مارکیٹ میں توازن قائم رہے گا۔
دوسری جانب، ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود آسٹریلیا میں مقیم رہنے والے افراد (اوورسٹے زرز) کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ ایسے افراد کو حراست میں لینے کے لیے خصوصی حراستی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد ملک بدر کیا جا سکے۔ اس سخت گیر پالیسی پر مختلف حلقوں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں ناقدین اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہیں حکومت کا عزم ہے کہ وہ قومی مفاد میں ان اصلاحات کو ہر صورت نافذ کرے گی۔