Business
امریکی فیڈرل ریزرو کا اثر، روپیہ 96 سے نیچے گر گیا اور بانڈز کی پیداوار میں اضافہ
امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے بعد کرنسی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ بھارتی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچتے ہوئے 96 روپے فی ڈالر سے نیچے گر گیا ہے جبکہ بانڈز کی پیداوار میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کیے گئے اضافے کے بعد بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بھارتی روپیہ شدید دباؤ کا شکار ہو کر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور یہ 96 روپے فی ڈالر کی اہم حد کو عبور کر چکا ہے۔ کرنسی مارکیٹ کے تاجروں اور ماہرین کے مطابق امریکی مرکزی بینک کے سخت فیصلوں کی وجہ سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ روپیہ گرنے کے ساتھ ساتھ بانڈز کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی معاشی صورتحال میں خطے کے مرکزی بینکوں کو اپنی کرنسیوں کے دفاع کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ تجارتی حلقوں کے مطابق مرکزی بینک کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں تاکہ روپے کی مزید گراوٹ کو روکا جا سکے اور منڈی میں استحکام لایا جا سکے، تاہم دباؤ تحال برقرار ہے۔ روپیہ گرنے اور بانڈز کی پیداوار بڑھنے کے اس مجموعی منظر نامے نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے اور آئندہ دنوں میں بھی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔