World
بولیویا میں جنگلی بلی کی نئی نسل دریافت، صرف ایک زندہ نمونہ
سائنسدانوں نے بولیویا میں جنگلی بلی کی ایک نئی نسل کی دریافت کا اعلان کیا ہے جسے طویل عرصے تک دوسری نسلوں کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس نایاب جانور کا فی الحال صرف ایک ہی زندہ رکن دنیا میں موجود پایا گیا ہے۔
سائنس دانوں نے جنوبی امریکی ملک بولیویا میں جنگلی بلی کی ایک بالکل نئی اور منفرد نسل دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس نے حیاتیاتی تحقیق کے شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ داراصل چیتوں کی طرح دھبے دار جنگلی بلی ہے جسے طویل عرصے تک روایتی اور عام جنگلی بلیوں کی ہی ایک ذیلی قسم سمجھا جاتا رہا تھا، لیکن جدید سائنسی تجزیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک الگ اور نایاب نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کے مطابق اس دریافت کی سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس نئی دریافت شدہ نسل کا اس وقت دنیا میں صرف اور صرف ایک ہی زندہ رکن معلوم ہے۔ اس اکتشاف نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ اتنی کم تعداد کا مطلب ہے کہ یہ نسل معدومی کے انتہائی دہانے پر کھڑی ہے۔ محققین نے اس نایاب جنگلی بلی کی شناخت کے لیے اس کے جینیاتی اور جسمانی خدوخال کا گہرائی سے مطالعہ کیا، جس کے بعد یہ تاریخی انکشاف سامنے آیا کہ یہ دنیا بھر میں پائی جانے والی دیگر بلیوں کی اقسام سے جینیاتی طور پر کافی مختلف ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اکیلے زندہ نمونے کی حفاظت اور اس کی نسل کو بچانے کے لیے فوری طور پر ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بولیویا کے جنگلات میں پائے جانے والے اس منفرد جاندار کی دریافت کے بعد اب سائنس دان اس بات کی بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا اس کے مزید ہم نسل جنگلوں میں کہیں پوشیدہ ہیں یا نہیں۔ اس سائنسی کامیابی نے دنیا بھر کے محققین کی توجہ اس خطے کے ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کی طرف مبذول کرا دی ہے، اور ماہرین اس نایاب بلی کی بقا کے لیے فوری فیلڈ ریسرچ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔