World
یورپ جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی، آئی او ایم کی رپورٹ
بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) کے مطابق سنہ 2026 کے دوران یورپ آنے والے تارکین وطن کی سمندری راستے سے آمد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے باوجود خطرناک سمندری سفر کے دوران دو ہزار دو سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے یا لاپتہ ہو گئے۔
بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے دوران سمندری راستے سے یورپ جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ سرحدی سکیورٹی میں سختی اور خطرناک سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ تاہم، سفر کی خطرناک نوعیت اور مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں برس کے دوران اگرچہ مجموعی طور پر تارکین وطن کی آمد میں کمی ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود سمندری سفر کے دوران پیش آنے والے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار دو سو سے زائد افراد یا تو بحیرہ روم اور دیگر سمندری راستوں میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے یا پھر مکمل طور پر لاپتہ ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ قانونی راستوں کی بندش اور حالات کی بہتری کے فقدان کے باعث لوگ اب بھی انتہائی خطرناک طریقے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں نے سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف سرحدی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے اس بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے بنیادی وجوہات جیسے کہ غربت، جنگ زدہ علاقے اور سیاسی عدم استحکام کا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ آئی او ایم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کی سمندری نقل و حمل کے دوران جانیں بچانے کے لیے مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اپنائے تاکہ انسانی جانوں کے اس ضیاع کو روکا جا سکے۔