World
امریکہ نائجر یورانیم سرمایہ کاری چار سو چودہ ملین ڈالر
امریکہ نے نائجر سے اپنے فوجیوں کے انخلا کے دو سال بعد وہاں یورانیم کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام امریکہ، نائجر اور کینیڈا کے باہمی تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے افریقی ملک نائجر میں یورانیم کے ایک اہم پروجیکٹ کے لیے چار سو چودہ ملین ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اہم اقتصادی پیش رفت کو سفارتی حلقوں میں ایک بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ قدم نائجر سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے پورے دو سال بعد اٹھایا گیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں نمایاں تبدیلی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پروجیکٹ سے نہ صرف نائجر کی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ عالمی منڈی میں یورانیم کی سپلائی کے حوالے سے بھی نئے دروازے کھلیں گے۔
یہ یورانیم پروجیکٹ نہ صرف امریکہ اور نائجر کے باہمی تعلقات کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے کینیڈا کے ساتھ بھی سہ فریقی یا کاروباری روابط کو فروغ ملنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ کینیڈین کمپنیاں اور سرمایہ کار بھی اس خطے میں معدنیات کے شعبے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اس پروجیکٹ کو شمالی امریکہ اور افریقہ کے درمیان تعاون کا ایک نیا باب سمجھا جا رہا ہے۔ ماضی میں سکیورٹی اور سیاسی نوعیت کے تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو نائجر سے واپس بلانا پڑا تھا۔
تاہم، حالیہ اقتصادی اور معدنیاتی تعاون کی یہ کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ سفارتی محاذ پر کشیدگی کے باوجود تجارتی اور تزویراتی مفادات کے تحت تعلقات کو بحال کرنے کی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ یورانیم توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں انتہائی اہمیت کا حامل معدن ہے، اور اس میں امریکی سرمایہ کاری عالمی توانائی کی سلامتی کے تناظر میں بھی بہت معنی رکھتی ہے۔ نائجر کی حکومت نے اس سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملکی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ امریکہ اس کے ذریعے خطے میں اپنے اقتصادی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔