Pakistan
پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدوں پر عمل درآمد کا عزم، دفتر خارجہ کا بیان
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ اور مکہ ڈیفنس الائنس پر من و عن عمل درآمد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے۔
اسلام آباد (نیکسرہ نیوز اردو) ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (ایس ایم ڈی اے) اور سہ فریقی مکہ ڈیفنس الائنس کے نفاذ کے لیے روح اور نیت دونوں اعتبار سے مکمل پرعزم ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں جب ترجمان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان حوثی حملوں کو روکنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرے گا، تو انہوں نے کہا کہ معاہدوں پر عمل درآمد جاری ہے تاہم آپریشنل رازداری کی وجہ سے وقت، حکمت عملی اور استعمال ہونے والی طاقت کی تفصیلات کو فی الحال صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باب المندب کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور پاکستان تمام فریقین سے تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اپنانے کی اپیل کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے خطے اور بین الاقوامی براداری کے مفاد میں ہے۔
ایک اور اہم پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے تصدیق کی کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف آئندہ ہفتے نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 81ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کئی وفاقی وزراء بھی ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم پاکستان عالمی و علاقائی صورتحال، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلامو فوبیا اور عالمی معاشی چیلنجز پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی ابتر صورتحال کو بھی دنیا کے سامنے رکھیں گے۔
بریفنگ کے دوران سجاد حیدر خان نے سکھ یاتریوں کے حوالے سے بھارتی میڈیا میں چلنے والی خبروں کو ایک بدنیتی پر مبنی مہم قرار دیا اور واضح کیا کہ سکھ یاتریوں کو فیصل آباد ایئرپورٹ پر روکنے سے متعلق خبریں درست نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ویزے 1974 کے دوطرفہ پروٹوکول کے دائرہ کار میں نہیں آتے تھے کیونکہ یہ ویزے بغیر باضابطہ ہم آہنگی کے جاری کیے گئے تھے۔ پاکستان کی پالیسی کے تحت سکھ یاتریوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا ہے اور کرتارپور راہداری بھی اس مقصد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔