LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ڈرون ساز کمپنی پاورس کا پاک فوج کے ساتھ معاہدہ

News Image
امریکی ڈرون کمپنی پاورس نے پاک فوج کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس میں ڈرون سے متعلق ایک ابتدائی آرڈر بھی شامل ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد دونوں ممالک کے مابین دفاعی ٹیکنالوجی اور پیداوار کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان دفاعی تعاون کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی ڈرون ساز کمپنی پاورس (Powerus) نے پاک فوج کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ کمپنی کے کو فاؤنڈر بریٹ ویلیکووچ نے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس معاہدے میں ڈرون سے متعلق ایک ابتدائی آرڈر بھی شامل ہے۔ تاہم، انہوں نے سیکیورٹی خدشات اور رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاہدے کی مالیت یا دیگر تکنیکی تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاورس کمپنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں کی مالی اعانت سے چلنے والی پبلک کمپنی کے ساتھ انضمام کے مراحل میں ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاورس کے ایک وفد نے بریٹ ویلیکووچ کی قیادت میں آرمی چیف سے ملاقات کی تھی جس میں دفاعی خریداری، پیداوار اور طویل المدتی صلاحیت سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اگرچہ فوجی ذرائع کے بیان میں باضابطہ معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا لیکن کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ طویل مدتی تکنیکی تعلقات استوار کرنے کے خواہشمند ہیں۔ پاورس کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو فوکس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا مقصد امریکہ اور پاکستان کی بہترین دفاعی ٹیکنالوجی کو یکجا کرنا ہے اور کمپنی پاکستان میں مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ پاورس کا انضمام اورس گرین وے ہولڈنگز (Aureus Greenway Holdings) کے ساتھ ہونے جا رہا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ تاہم، کمپنی کے ترجمان اور انتظامیہ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کاروباری معاہدے کے پیچھے کسی سیاسی شخصیت کا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام معاہدے میرٹ کی بنیاد پر طے پاتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں کا کمپنی کے روزمرہ کے انتظامی امور یا معاہدوں کی خریداری میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔