LIVE
Loading Breaking News...

محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد

News Image
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انکوائری ایجنسی کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ پہلے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا تحریری جواب جمع کروائیں۔
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جمعرات کے روز قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی محمد رضوان کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا ہے جس میں انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انکوائری ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے شروع کی گئی انکوائری کو چیلنج کیا تھا۔ سماعت کے دوران محمد رضوان کے وکیل قاضی عمیر علی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ این سی سی آئی اے نے آٹھ ستمبر کو نوٹس جاری کر کے کرکٹر کو غیر قانونی طور پر طلب کیا۔ نوٹس ملنے کے بعد محمد رضوان اور دوسرے کرکٹر امام الحق دس ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش بھی ہوئے تھے، تاہم رضوان نے اس انکوائری اور ایجنسی کے نوٹس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جمعرات کے روز اس پٹیشن کو سننے سے صاف انکار کر دیا اور محمد رضوان کے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ سب سے پہلے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا تحریری جواب جمع کروائیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جا کر پہلے نوٹس کا جواب دیں۔ بعد ازاں، کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد رضوان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایجنسی کو پہلے ہی جواب جمع کرایا جا چکا ہے۔ محمد رضوان نے اپنی درخواست میں این سی سی آئی اے کے نوٹس اور انکوائری کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایجنسی نے انہیں پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ یا جوا کھیلنے کے الزامات کے سلسلے میں دس ستمبر کو طلب کیا تھا، جو کہ ایک مبہم اور من مانی کارروائی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ آن لائن بیٹنگ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016ء یا 2025ء کی ترامیم کے تحت کوئی شیڈولڈ آفینس نہیں ہے، اس لیے یہ انکوائری محض محمد رضوان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔ رضوان کے وکیل نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گرفتاری یا دیگر جبری اقدامات کیے جا سکتے ہیں، اس لیے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے، انکوائری کو ختم کیا جائے اور حکام کو کسی بھی منفی کارروائی سے روکا جائے۔ واضح رہے کہ یہ انکوائری پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی سربراہی میں انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران دی گئی شکایت پر شروع کی گئی تھی، جس میں قومی ٹیم کو تین صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں اس انکوائری کا تعلق ڈریسنگ روم کی مبینہ لیکس اور نظم و ضبط سے جوڑا گیا تھا۔ گیارہ ستمبر کو امام الحق اور محمد رضوان کو صدر ٹرافی گریڈ ون ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں کھیلنے سے بھی روک دیا گیا تھا، جبکہ وہ ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں میں شکست کے بعد واپس وطن طلب کر لیا گیا تھا۔