Business
باب المندب کی بندش اور پاکستان کی معیشت پر اثرات
باب المندب کی ممکنہ بندش کے نتیجے میں پاکستان کی درآمدات اور برآمدات شدید متاثر ہوسکتی ہیں جس سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹ اور بحیرہ احمر کی صورتحال کے باعث پاکستان کو توانائی کے بحران اور تجارتی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
باب المندب کا جغرافیائی لحاظ سے کراچی سے فاصلہ بہت زیادہ ہے، لیکن اگر اس اہم تجارتی راستے کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے تو اس کے اثرات براہ راست پاکستان کے کارخانوں، گھریلو بجٹ اور ہر اس گاڑی پر پڑیں گے جو ایندھن استعمال کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال میں خطرات اس لیے بھی بہت زیادہ ہیں کیونکہ بحری جہازوں کے بڑھتے ہوئے کرایوں اور برآمدات میں تاخیر کی وجہ سے روزگار کے مواقع بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور زیادہ تر بحری جہازوں کے لیے بند ہے، جبکہ حوثی فورسز کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں میں اضافے اور باب المندب کی مکمل ناکہ بندی کی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجارتی ماہرین اور صنعت کاروں کے مطابق باب المندب کی بندش سے یورپی ممالک کے ساتھ تجارت کرنے والے جہازوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ متبادل کے طور پر بحری جہازوں کو افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کا چکر لگا کر جانا پڑے گا جس سے سفر کا دورانیہ دس سے اٹھارہ دن تک بڑھ جائے گا اور مال برداری کے اخراجات میں لاکھوں ڈالرز کا اضافہ ہوگا۔ پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق، شمالی یورپ سے کراچی آنے والے کارگو جہاز کو باب المندب اور نہر سویز کے راستے اٹھارہ سے بائیس دن لگتے ہیں، لیکن طویل راستے کے اختیار کرنے سے نہ صرف ترسیل کے نظام پر دباؤ بڑھے گا بلکہ برآمد کنندگان بالخصوص ٹیکسٹائل کے شعبے کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔
توانائی کے شعبے میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے بندرگاہوں سے پاکستانی ریفائنریز کے لیے آنے والا خام تیل بند ہو چکا ہے، جبکہ خلیج فارس سے آنے والی مصنوعات کی ترسیل میں بھی کمی آئی ہے۔ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے بعد پاکستان کو تیل کی فراہمی میں شدید رکاوٹ کا سامنا ہے اور گزشتہ چند دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان کے پاس محدود تزویراتی ایندھن کے ذخائر موجود ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بحری اخراجات یا انشورنس میں اضافے کا بوجھ براہ راست عام صارفین پر پڑتا ہے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر سردار طاہر کا کہنا ہے کہ اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہوگا اور اسٹریٹجک فیول ذخائر تیار کرنے ہوں گے۔ حکومت اور صنعت کاروں کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ وہ محض بحران کا انتظار کرنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر بدلتی ہوئی لاجسٹکس اور سپلائی چین کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت حکمت عملی تیار کریں تاکہ ملک کو بڑے معاشی نقصان سے بچایا جا سکے اور پاکستانی برآمدات کی مسابقت کو برقرار رکھا جا سکے۔