LIVE
Loading Breaking News...

چار روزہ سرکاری ہفتے کا نوٹیفکیشن جعلی، وزارتِ اطلاعات کی وضاحت

News Image
وفاقی وزارتِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اس نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دے دیا ہے جس میں چار روزہ سرکاری ہفتے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ عوام گمراہ کن مواد پر یقین نہ کریں اور تمام مصدقہ اعلانات کے لیے سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔
وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جمعرات کے روز واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا وہ نوٹیفکیشن سراسر جعلی ہے جس میں سرکاری دفاتر کے لیے چار روزہ ہفتہ وار کام کے نظام کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس جعلی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے ہفتے میں چار دن کام اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیلات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت کے آفیشل فیکٹ چیک اکاؤنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں عوام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے گمراہ کن اور فرضی مواد پر ہرگز یقین نہ کریں اور نہ ہی اسے آگے شیئر کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری فیصلے یا نوٹیفکیشن کی تصدیق کے لیے صرف مستند سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے۔ یہ جعلی نوٹیفکیشن 16 ستمبر کی تاریخ کے ساتھ وائرل ہوا تھا، جو کہ عین اس دن کے بعد سامنے آیا جب حکومت نے ملک میں کفایت شعاری کے اقدامات کو دوبارہ بحال کرنے پر غور کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور ماضی کے ایندھن کے بحران کے پیشِ نظر حکومت سرکاری سطح پر اخراجات کم کرنے کے لیے پرانی کفایت شعاری کی پالیسیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان ممکنہ اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں کٹوتی اور سرکاری شعبے میں جزوی طور پر گھر سے کام کرنے کی پالیسی شامل ہو سکتی ہے، تاہم چار روزہ ورک ویک کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں اور نوٹیفکیشن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی غیر مصدقہ اطلاعات سے معاشرے میں ابہام پیدا ہوتا ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ خبروں کی سچائی جانچنے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کریں۔