Technology
بچوں کا سوشل میڈیا استعمال اور حکومت کا نیا لائحہ عمل
حکومت نے بچوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کو محدود کرنے اور عمر کی حد مقرر کرنے کے لیے مشاورت کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ اس حوالے سے تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کرے گی تاکہ اہم فیصلے کیے جا سکیں۔
وفاقی حکومت نے بچوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کو محدود کرنے اور اس حوالے سے عمر کی حد مقرر کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اہم فیصلے کا مقصد کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات اور نقصانات سے بچانا ہے۔ دنیا بھر میں بچوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی روشنی میں پاکستان میں بھی اس پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ وزارت داخلہ اس معاملے پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین کے ساتھ وسیع مشاورت کرے گی۔ اس مشاورت کا مقصد تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا اور ایک ایسا متوازن لائحہ عمل تیار کرنا ہے جس پر عملی طور پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ والدین، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی آراء کو اس عمل میں بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
بین الاقوامی سطح پر آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی جانب سے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیوں اور عمر کی حد کے حوالے سے نافذ کردہ پالیسیوں کا بھی بغور مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کے لیے ضابطہ کار وضع کیا جائے تاکہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے اس ابتدائی مشاورت کے بعد باضابطہ تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس حوالے سے مزید اہم اعلانات کیے جائیں گے، جن میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بھی کچھ ضابطے اور پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں تاکہ وہ کم عمر صارفین کے اکاؤنٹ کے اندراج کے وقت سخت قوانین پر عمل کریں۔