Business
تیل کی قیمتوں میں تیسرے روز بھی کمی، سعودی سپلائی کے خدشات کم
حوثی حملوں کے باوجود سعودی عرب میں تیل کی رسد زیادہ متاثر نہ ہونے کی توقعات کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی گرافت دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل روٹس اور تنصیبات کی جلد بحالی سے تیل کی ترسیل معمول پر رہنے کی امید ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور یہ رجحان مسلسل تیسرے روز بھی دیکھا گیا۔ اس کمی کی بنیادی وجہ یہ امیدیں بتائی جا رہی ہیں کہ حوثی حملوں کے باوجود سعودی عرب میں تیل کی رسد اور سپلائی میں خلل محدود رہے گا اور مارکیٹ پر اس کے اثرات زیادہ گہرے نہیں ہوں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ابتدائی طور پر جب حوثی حملوں اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے اہم پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئیں تو مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، تاہم اب یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ صورتحال جلد قابو میں آ جائے گی۔ سعودی عرب کے پاس اپنی توانائی کی برآمدات کو جاری رکھنے کے لیے متعدد متبادل راستے اور آپشنز موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ینبو سے لے کر صحار تک تیل کے متبادل روٹس کی نگرانی اور ان کا فعال ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ سپلائی چین مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوگی۔ ان متبادل ذرائع کی موجودگی نے سرمایہ کاروں اور خریداروں کو کسی حد تک مطمئن کر دیا ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں استحکام کی بجائے کمی کا رجحان غالب آ گیا ہے۔ بین الاقوامی تجارتی حلقے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی توانائی کی مارکیٹوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ اگرچہ حالیہ حملوں نے توانائی کی تنصیبات کی سکیورٹی پر نئے سوالات ضرور کھڑے کیے ہیں، لیکن سعودی حکام کی جانب سے فوری اقدامات اور متبادل حکمت عملی نے بدترین خدشات کو ٹال دیا ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار خطے کی سکیورٹی صورتحال اور اوپেক (OPEC) کے آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔ فی الحال منڈی میں مندی کا یہ رجحان صارفین کے لیے ایک مثبت خبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر مہنگائی پہلے ہی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔