World
اقوام متحدہ: روس اور چین کا ایران پابندیوں سے متعلق امریکی قرارداد کو ویٹو
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے پینل کی مدت میں توسیع کی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ اس معاملے پر پاکستان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانبدار رہا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے دوران روس اور چین نے ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے پینل کی مدت میں توسیع کی امریکی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ دونوں عالمی طاقتوں کی جانب سے اس قرارداد کو ویٹو کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کا نگرانیاتی نظام ختم ہو گیا ہے، جس سے مغربی ممالک کی مشکلات میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر تہران کے ساتھ تعلقات اور جوہری پروگرام پر کشیدگی برقرار ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلامتی کونسل کے اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد کا مقصد ایران پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور اس کی کڑی نگرانی کرنا تھا۔ تاہم، روس اور چین نے اس امریکی مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ویٹو کر دیا، جس کی وجہ سے قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ اس صورتحال نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر مغربی ممالک اور روس چین کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو واضح کر دیا ہے، جہاں کونسل کے اراکین کے درمیان اہم عالمی امور پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب، اس اہم ووٹنگ کے عمل کے دوران پاکستان نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ پاکستانی موقف کو خطے میں توازن برقرار رکھنے اور سفارتی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کا خواہاں ہے اور عالمی تنازعات میں فریق بننے سے گریزاں ہے۔
اس پینل کے مینڈیٹ کی تجدید نہ ہونے سے اب ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سطح پر پابندیوں کی نگرانی کا طریقہ کار بری طرح متاثر ہوگا۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد عالمی سفارت کاری میں نئے رُخ سامنے آئیں گے اور امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو تہران کے خلاف حکمت عملی از سر نو مرتب کرنا ہوگی۔ روس اور چین کے اس اقدام کو خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ایک اور کڑی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔