World
یمن کا ایران پر الزام: باب المندب کو عسکری بنانے کی کوشش
یمنی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران حوثی ملیشیا کے ذریعے اہم آبی گزرگاہ باب المندب کو عسکری رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس صورتحال سے خطے میں سکیورٹی کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
یمن کے وزیر داخلہ نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران حوثی ملیشیا کی پشت پناہی کر کے اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ باب المندب کو عسکری رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے حوثیوں کو جدید اسلحے اور عسکری تعاون کی فراہمی کا مقصد خطے میں اپنی طاقت کو بڑھانا اور بین الاقوامی سمندری تجارت کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ یمنی حکومت نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے۔
واضح رہے کہ باب المندب دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل اور دیگر سامان تجارت گزرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں حوثی ملیشیا کی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری جہازوں کی سکیورٹی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ یمنی حکام کا ماننا ہے کہ یہ تمام پیش رفت ایران کی براہ راست سرپرستی میں ہو رہی ہے تاکہ خطے پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، یمن میں جاری تنازع کے باعث انسانی بحران بھی سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ مآرب اور دیگر اہم محاذوں پر جھڑپیں بدستور جاری ہیں، جس سے امن کی تمام کوششیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب کے علاقے میں عسکری کشیدگی میں کمی نہ لائی گئی تو اس کے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی طاقتوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں کا عسکری استعمال کسی بھی ملک کے حق میں نہیں ہے اور اس بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔