LIVE
Loading Breaking News...

اعظم نذیر تارڑ کا وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات پر بیان

News Image
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات آئین میں بالکل واضح طور پر طے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات پاکستان بار کونسل کے ایک وفد کی جانب سے چیف جسٹس کو قانونی تعلیم سے متعلق رپورٹ پیش کیے جانے کے موقع پر کہی۔
وفاقی وزیر قانون اور انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ آئینِ پاکستان کے تحت وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات اور دائرہ کار بالکل واضح طور پر طے کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی نوعیت کے تمام اہم معاملات قانون کے مطابق متعلقہ فورمز کے سپرد کیے گئے ہیں تاکہ نظامِ انصاف میں بہتری لائی جا سکے اور فیصلوں میں تاخیر کا خاتمہ ہو سکے۔ یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں قانونی و عدلتی اصلاحات پر بحث جاری ہے اور حکومت عدالتی امور کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔دوسری جانب پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی اور انہیں ملک میں قانونی تعلیم کی موجودہ صورتحال اور اس میں اصلاحات سے متعلق ایک تفصیلی پیش رفت رپورٹ پیش کی۔ اس ملاقات میں قانونی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور ملک بھر میں وکالت کے شعبے کو درپیش چیلنجز پر بھی کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد کے ارکان کا ماننا تھا کہ معیاری قانونی تعلیم کے بغیر بہتر عدالتی نظام کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ماضی میں بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے قانون کے کالجوں کے پھیلاؤ نے مجموعی طور پر قانونی پیشے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد لا کالجز کی اندھا دھند ترویج اور غیر معیاری تعلیم کے باعث وکالت کے معیار میں گراوٹ آئی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اب سخت اور جامع اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت اس حوالے سے بار کونسلز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔