LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب میں انسداد دہشت گردی ترامیم، اپوزیشن لیڈر کا لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

News Image
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے دہشت گردی کے مقدمات میں خفیہ نظام کے تحت ٹرائل کی اجازت دینے والے متنازعہ قانونی ترمیم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ترامیم بنیادی حقوق اور شفاف ٹرائل کے آئینی تقاضوں کے منافی ہیں۔
لاہور: پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نے انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں کی جانے والی حالیہ متنازعہ ترامیم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ اس حوالے سے دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ قانون میں کی گئی وہ تبدیلیاں جن کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں خفیہ نظام (कॉन्फिडेंशियल régimen) کے تحت ٹرائل کی اجازت دی گئی ہے، آئینِ پاکستان کی بنیادی روح اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے سراسر خلاف ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اس طرح کے خفیہ ٹرائلز سے ملزم کے دفاع کا حق سلب ہوتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ قانونی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ عدائلی کارروائیوں کو خفیہ رکھنا اور ملزم کو شفاف قانونی کارروائی سے محروم کرنا انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ درخواست میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ان ترامیم کو کالعدم قرار دے تاکہ عدالتی نظام میں شفافیت کو بحال رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں کی جانے والی ان ترامیم پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پہلے ہی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی سے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا خدشہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے حMل میں اس معاملے کی سماعت اور فریقین کے دلائل کے بعد آئینی و قانونی نوعیت کے اہم فیصلے متوقع ہیں۔