LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی آرمی چیف کا دورہ ایران اور حوثی حملوں کے حوالے سے اہم مطالبات

News Image
پاکستانی فوج کے سربراہ نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے حوثیوں کو سعودی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے روکے۔ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں سکیورٹی خدشات اور امریکی ایرانی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
تہران: پاکستانی فوج کے سربراہ نے دورہ ایران کے دوران اعلیٰ ایرانی حکام اور وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور اہم تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی فوجی قیادت نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حوثی فورسز کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حملے بند کریں۔ یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امن و امان کی بحالی اور تیل کی سپلائی لائنز کو محفوظ بنانا بین الاقوامی برادری کے لیے اولین ترجیح بن چکا ہے۔ حالیہ مہینوں میں حوثیوں کی جانب سے توانائی کے مراکز پر حملوں نے علاقائی استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اس اعلیٰ سطحی مکالمے سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں مزید انارکی اور اقتصادی بحران سے بچا جا سکے۔