Business
بینک آف جاپان کا شرح سود میں اضافہ، اکیس سالہ ریکارڈ بلند ترین سطح
جاپان کے مرکزی بینک نے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے جو کہ گزشتہ اکیس برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اقدام کا مقصد معیشت میں استحکام لانا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
بینک آف جاپان نے ملک میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے کے لیے اپنی شرح سود میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جو اب اکیس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ماہرین اسے ایک بڑا معاشی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ بینک آف جاپان کا یہ اقدام کئی دہائیوں پر محیط انتہائی نرم مالیاتی پالیسیوں کے دور کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
مربوط مالیاتی پالیسی کے بیان میں مرکزی بینک کے حکام نے واضح کیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ عالمی منڈی میں رس رسد کے مسائل اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث جاپان کو بھی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے شرح سود کو بڑھانا ناگزیر ہو گیا تھا تاکہ مارکیٹ میں اضافی لیکویڈیٹی کو کنٹرول کیا جا سکے اور ین کی قدر کو سہارا مل سکے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے کے اثرات نہ صرف جاپان کی اندرونی معیشت پر مرتب ہوں گے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اس کے گہرے اثرات ہوں گے۔ جاپان جیسے بڑے معاشی کھلاڑی کی جانب سے شرح سود میں اس نوعیت کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک اب بلند تورم سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہیں۔ بینک آف جاپان نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر مہنگائی کی شرح میں مطلوبہ کمی واقع نہ ہوئی تو مستقبل میں بھی مزید سخت فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔