Entertainment
یوروویژن گانے کے مقابلے میں برطانیہ کی شکست پر پارلیمانی تحقیقات
برطانیہ کے ارکانِ پارلیمنٹ نے رواں برس مئی میں ہونے والے یوروویژن گانے کے مقابلے میں ملک کی مایوس کن کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی انٹری صرف ایک پوائنٹ کے ساتھ آخری نمبر پر رہی تھی۔
برطانیہ کے ارکانِ پارلیمنٹ نے رواں برس مئی میں منعقد ہونے والے مشہور یوروویژن گانے کے مقابلے میں ملک کی مایوس کن اور ناقص کارکردگی کی باضابطہ تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے گانے 'لک مم نو کمپیوٹر' کو مقابلے میں انتہائی کم پذیرائی ملی اور وہ محض ایک پوائنٹ کے ساتھ فہرست میں آخری نمبر پر رہا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں شدید تنقید کی گئی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی اب اس بات کا جائزہ لے گی کہ برطانوی نشریاتی اداروں اور متعلقہ حکام کی جانب سے کس طرح گانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور کیا اس عمل میں کسی قسم کی خامیوں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماضی میں بھی برطانیہ کو یوروویژن کے مقابلے میں کئی بار ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں نتائج مزید مایوس کن ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے میوزک انڈسٹری کے ماہرین اور شائقین میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ میں اس معاملے کے اٹھائے جانے کا مقصد مستقبل میں بہتر حکمت عملی اپنانا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا وقار بحال کیا جا سکے اور ایک مضبوط امیدوار کو اس بڑے پلیٹ فارم پر بھیجا جا سکے۔ تحقیقات کے دوران مختلف ماہرینِ موسیقی اور شوز کے پروڈیوسرز سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کس طرح کے گانے بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکتے ہیں۔
یوروویژن گانے کا مقابلہ یورپ کا سب سے بڑا میوزیکل ایونٹ مانا جاتا ہے جس میں لاکھوں لوگ براہ راست شرکت کرتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر اسے کروڑوں افراد دیکھتے ہیں۔ برطانیہ جیسے ملک کے لیے، جو عالمی پاپ موسیقی کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، اس مقابلے میں آخری پوزیشن حاصل کرنا ایک بڑا قومی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ آئندہ چند ماہ میں متوقع ہے جس کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے کے لیے انتخابی طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیوں کی سفارش کی جا سکتی ہے۔