LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں 100 فیصد مارگیج اور گھر کی خریداری کے مالیاتی خطرات

News Image
برطانیہ میں چھوٹے ڈپازٹس کے ساتھ گھر خریدنے والے مارگیج کا حصہ 2008 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ بی بی سی نے اس رپورٹ میں ان خریداروں سے بات کی ہے جو اس مالیاتی عمل کے دوران پیش آنے والے خطرات کو کس طرح سنبھال رہے ہیں۔
برطانیہ کی ہاؤسنگ مارکیٹ میں حالیہ دنوں کے دوران ایک اہم اور دلچسپ تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جہاں چھوٹے ڈپازٹس کے ساتھ مارگیج حاصل کرنے کا تناسب سال 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ متعدد نوجوان جوڑوں اور نئے خریداروں نے اپنی جمع پੂੰجی نہ ہونے کے باوجود سو فیصد مارگیج کے ذریعے اپنا پہلا گھر خریدنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔ اس رجحان نے جہاں ایک طرف بے گھر افراد کو چھت فراہم کرنے میں مدد دی ہے، وہیں دوسری طرف ماہرین اقتصادیات نے اس عمل میں چھپے ہوئے مالیاتی خطرات کے حوالے سے خبردار بھی کیا ہے کیونکہ پراپرٹی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے براہ راست اثرات ان قرض داروں پر پڑتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس حوالے سے کچھ ایسے خریداروں سے خصوصی بات چیت کی ہے جنہوں نے تمام تر خطرات کے باوجود سو فیصد مارگیج کے آپشن کا انتخاب کیا۔ ان خریداروں کا کہنا تھا کہ کرایے کی بڑھتی ہوئی آسمان چھوتی قیمتوں اور ہر ماہ بچت کرنے کی ناممکن سی کوششوں کے مقابلے میں اپنا گھر خریدنا اور اس کی ماہانہ قسط ادا کرنا طویل مدت میں زیادہ سودمند معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شروع میں یہ فیصلہ ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے کیونکہ مارکیٹ میں گراوٹ آنے کی صورت میں ان کے گھر کی قیمت قرض کی مالیت سے کم ہو سکتی ہے جسے منفی ایکوئٹی کہا جاتا ہے، لیکن وہ اپنے طویل مدتی مالیاتی نظم و ضبط پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں اور مارگیج کے ماہرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ اس طرح کے قرضے لینے والے افراد کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ شرح سود میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں سو فیصد مارگیج لینا ایک بہت بڑا جوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اگر خریدار کی نوکری یا آمدنی کے ذرائع متاثر ہوں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اس قسم کے مالیاتی معاہدے میں داخل ہونے سے پہلے تمام پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے اور ہنگامی حالات کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ بچت الگ رکھنی چاہیے تاکہ مارکیٹ کے کسی بھی منفی جھٹکے کا مقابلہ کیا جا سکے اور خاندان مالی تباہی سے محفوظ رہ سکے۔ حکومت اور مالیاتی ریگولیٹرز بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بینکس اور مالیاتی ادارے غیر ضروری طور پر خطرناک قرضے نہ بانٹیں جو کہ مستقبل میں کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، بڑھتی ہوئی طلب اس بات کی غماز ہے کہ برطانوی معاشرے میں اپنا گھر ہونا آج بھی ہر شہری کا ایک بڑا خواب ہے جس کے لیے وہ بڑے سے بڑا مالی خطرہ مول لینے کو تیار ہیں۔