LIVE
Loading Breaking News...

یوٹیوب اور ٹک ٹاک سے ڈرائیونگ سیکھنا کتنا خطرناک ہے؟

News Image
اخراجات میں کمی لانے کے لیے نوآموز ڈرائیورز ڈرائیونگ سیکھنے کے لیے یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، پروفیشنل ڈرائیونگ انسٹرکٹرز نے ان آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود غلط معلومات اور سڑک پر ممکنہ خطرات کے حوالے سے شدید خبردار کیا ہے۔
مہنگائی کے اس دور میں ڈرائیونگ کے باقاعدہ اسباق حاصل کرنا کافی مہقھا سودا بن چکا ہے، جس کے پیش نظر اب متعدد نوآموز ڈرائیورز نے اپنے اخراجات میں کمی لانے کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کر لیا ہے۔ دنیا بھر میں ڈرائیونگ سیکھنے والے نوجوان یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر موجود مختصر ویڈیوز اور کلپس کی مدد سے گاڑی چلانے کے گر سیکھ رہے ہیں۔ کئی نوآموز ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ ان مفت آن لائن ویڈیوز اور گائیڈز کی وجہ سے انہیں پروفیشنل انسٹرکٹرز پر آنے والے بھاری اخراجات بچانے میں خاطر خواہ مدد ملی ہے اور انہوں نے بنیادی باتیں گھر بیٹھے سیکھ لی ہیں۔ تاہم، اس رجحان کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ماہرین اور پروفیشنل ڈرائیونگ انسٹرکٹرز نے اس کے ممکنہ خطرات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر کوئی ماہر نہیں ہوتا اور بہت سی ویڈیوز میں ٹریفک قوانین، سڑک کے آداب اور گاڑی کی ہینڈلنگ سے متعلق غلط یا ادھوری معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس طرح کی گمراہ کن یا غیر مصدقہ معلومات نوآموز ڈرائیورز کے لیے سڑک پر بڑے حادثات کا سبب بن سکتی ہیں، کیونکہ وہ عملی تربیت اور ماہر کی زیر نگرانی مشق کے بغیر شاہراہوں پر نکل آتے ہیں۔ ایک نوآموز طالبعلم نے اپنے تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا کلپس نے اسے ابتدائی مراحل میں مالی طور پر بہت سہارا دیا، لیکن ساتھ ہی اسے اس بات کا بھی احساس ہوا کہ آن لائن موجود تمام مواد درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ ان ویڈیوز میں ایسی تکنیکس سکھائی جاتی ہیں جو مقامی ٹریفک قوانین سے مطابقت نہیں رکھتیں، جس سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ جان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ڈرائیونگ کے ماہرین کا یہی مشورہ ہے کہ اگرچہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی ایپلی کیشنز سے رہنمائی لینا برا نہیں ہے، لیکن یہ پروفیشنل اور مجاز ڈرائیونگ انسٹرکٹرز کے عملی اسباق کا مکمل متبادل ہرگز نہیں ہو سکتی۔ سڑک پر محفوظ طریقے سے گاڑی چلانے کے لیے باقاعدہ پریکٹس، روڈ سیفٹی کے اصولوں سے آگاہی اور کسی ماہر کی براہ راست نگرانی ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔