Entertainment
زارا لارسن کی وائٹ ہاؤس پر تنقید، ڈی پورٹیشن ویڈیو سے گانا حذف
مشہور سویڈش گلوکارہ زارا لارسن نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان کے گانے کو امیگریشن اور ڈی پورٹیشن کی ایک ویڈیو میں استعمال کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ تنقید کے بعد وائٹ ہاؤس کو مجبوراََ سوشل میڈیا ریل سے یہ گانا ہٹانا پڑا۔
عالمی شہرت یافتہ سویڈش پاپ گلوکارہ زارا لارسن نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان کے گانے کو تارکینِ وطن کی ملک بدری یعنی ڈی پورٹیشن سے متعلق ایک ویڈیو میں استعمال کرنے پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ گلوکارہ نے اس عمل کو انتہائی غیر انسانی قرار دیا جس کے بعد انتظامیہ کو فوری طور پر پیچھے ہٹنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تارکینِ وطن کی ملک بدری کے حوالے سے ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا گیا جس کے پس منظر میں زارا لارسن کا مقبول گانا مڈنائٹ سن (Midnight Sun) چلایا جا رہا تھا۔ اس اقدام پر گلوکارہ نے فوری اور سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فن کو اس طرح کے غیر انسانی اور تفرقہ انگیز مقاصد کے لیے استعمال کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ زارا لارسن نے سوشل میڈیا پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی اجازت کے بغیر اور ایسے تناظر میں ان کی موسیقی کا استعمال سراسر غلط ہے۔ ان کے اس مؤقف کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی وائٹ ہاؤس کی اس پالیسی پر کڑی تنقید کی گئی اور فنکاروں کے حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دباؤ بڑھنے کے بعد بالاخر وائٹ ہاؤس کے عملے کو اس معاملے پر پسپا ہونا پڑا۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر متنازعہ ریل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹا دیا تاکہ مزید تنقید سے بچا جا سکے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سیاسی پیغامات اور مہمات میں آرٹسٹوں کی اجازت کے بغیر ان کے کاپی رائٹس اور گانوں کے استعمال کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر ایک اہم بحث کو جنم دے دیا ہے۔