World
سعودی عرب کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کا تنازعہ اور امریکہ کا کردار
سعودی عرب طویل عرصے سے دنیا کے جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے کے لیے امریکی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس مجوزہ دفاعی معاہدے کو خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی سطح پر شدید تنقید اور بحث کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے طویل عرصے سے امریکہ سے دنیا کے جدید ترین اور انتہائی طاقتور ایف 35 (F-35) لڑاکا طیارے خریدنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ طیارے اپنی ٹیکنالوجی، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت اور فضائی برتری کی وجہ سے عالمی دفاعی منڈی میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ریاض حکومت خطے میں اپنی فضائیہ کو مزید جدید اور طاقتور بنانے کے لیے ان طیاروں کے حصول کو انتہائی ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے واشنگٹن میں کئی برسوں سے سفارتی اور دفاعی لابیگ کی جا رہی ہے۔
تاہم، اس مجوزہ معاہدے کو امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنازعات اور تحفظات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ناقدین اور بعض امریکی قانون سازوں کا یہ ماننا ہے کہ اس قسم کے انتہائی حساس اور جدید دفاعی سازوسامان کی مشرق وسطیٰ کو منتقلی سے خطے میں طاقت کا روایتی توازن بگڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ سکیورٹی تعلقات اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے بھی گہرے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے اندر بھی اس معاملے پر سیاسی تقسیم پائی جاتی ہے۔ ایک طرف جہاں دفاعی صنعت اور کچھ تزویراتی حلقے سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی اتحاد کو مضبوط کرنے کے حامی ہیں، وہیں دوسری طرف انسانی حقوق کے مسائل اور خطے میں طویل مدتی استحکام کو لے کر سخت سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک تجارتی یا دفاعی سودا نہیں رہا بلکہ ایک انتہائی حساس سیاسی موضوع بن چکا ہے جس پر واشنگٹن اور ریاض کے درمیان بات چیت جاری ہے۔