Business
بینک آف جاپان کا شرح سود میں اضافہ، اکتیس سالہ ریکارڈ
جاپان کے مرکزی بینک نے بڑھتی ہوئی مہخمائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بینچ مارک شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں معاشی استحکام اور قیمتوں کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
بینک آف جاپان نے اپنے حالیہ پالیسی اجلاس میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے شرح سود کو ایک فیصد سے بڑھا کر ایک عشاریہ دو پانچ فیصد کر دیا ہے۔ شرح سود کی یہ سطح گزشتہ اکتیس برسوں میں سب سے زیادہ ہے، جو کہ ملک میں بدلتی ہوئی معاشی صورتحال اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ مرکزی بینک کے اس اقدام کا بنیادی مقصد معیشت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق جاپانی معیشت طویل عرصے تک کم شرح سود اور معاشی جمود کا شکار رہی ہے، تاہم حالیہ مہنگوں میں قیمتوں کے بڑھنے کے رجحان نے پالیسی سازوں کو روایتی مانیٹری پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کر دیا ہے۔ بینک آف جاپان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ مہنگائی کے خطرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مستقبل میں بھی معاشی اشاریوں کی بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس فیصلے سے جاپانی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جبکہ مالیاتی منڈیوں میں بھی اس تبدیلی کے حوالے سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرمایہ کار اور معاشی تجزیہ کار اب آئندہ مالیاتی فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مرکزی بینک اس سخت پالیسی کو کب تک جاری رکھتا ہے۔