Technology
مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری: ایمازون، الفابیٹ اور مائیکروسافٹ کا کردار
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں ایمازون، الفابیٹ، مائیکروسافٹ اور اوریکل کے کلاؤڈ بیک لاگ میں ایک ہی سال کے دوران حیرت انگیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد اب بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔
دنیا کی سرکردہ ٹیکنالوجی کمپنیوں ایمازون، الفابیٹ، مائیکروسافٹ اور اوریکل کے کلاؤڈ بیک لاگ میں ایک سال کے اندر ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اب بڑھ کر دو اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ سال یہ اعداد و شمار آٹھ سو ارب ڈالر کے لگ بھگ تھے۔ اس حیرت انگیز اضافے نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر ان بڑی ٹیک کمپنیوں کی طرف مبذول کرا دی ہے، جو مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں سب سے آگے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اعداد و شمار محض تخمینہ نہیں ہیں بلکہ باقاعدہ دستخط شدہ کسٹمر کمٹمنٹس ہیں جو آنے والے برسوں میں ان کمپنیوں کی مستحکم کمائی کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ نے کلاؤڈ سروسز کی ضرورت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اور یہ کمپنیاں اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ان کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ان کا کلاؤڈ بیک لاگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں ان کی خدمات کی طلب طویل عرصے تک برقرار رہے گی۔ اس پس منظر میں، بہت سے مالیاتی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایمازون، الفابیٹ اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں تاحال مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سب سے زیادہ محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔