LIVE
Loading Breaking News...

باب المندب کی سیکیورٹی: اٹلی جنگی جہاز بھیجے گا

News Image
اٹلی کے وزیر دفاع نے باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے بند ہونے سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
اٹلی کی حکومت نے بحیرہ احمر کے انتہائی حساس اور اہم ترین تجارتی راستے باب المندب میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے جنگی جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا باقاعدہ اعلان اٹلی کے وزیر دفاع کی جانب سے کیا گیا ہے، جس میں اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ اٹلی کا یہ قدم یورپی یونین کے ممکنہ طور پر سست اور تاخیر کا شکار ہونے والے فیصلوں سے ہٹ کر اٹھایا گیا ہے تاکہ فوری طور پر تجارتی سرگرمیوں کو بحفاظت جاری رکھا جا سکے۔ وزیر دفاع نے اپنے بیان میں انتہائی شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر باب المندب کا یہ اہم ترین راستہ کسی بھی وجہ سے ناقابلِ عبور یا بند ہو جاتا ہے، تو اس کے دنیا بھر بالخصوص یورپی معیشت پر انتہائی بھیانک اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی تجارت کا ایک بہت بڑا حصہ اس گزرگاہ سے ہو کر گزرتا ہے، اور اس میں تعطل کی صورت میں سپلائی چین بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اٹلی اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ اس کے تجارتی بحری جہاز غیر محفوظ ہوں اور عالمی منڈیوں میں بحران پیدا ہو۔ حالیہ ہفتوں میں اس خطے میں سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ روایتی بحری راستوں میں رکاوٹیں کھڑی ہونے کی وجہ سے جہازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں جس سے ایندھن کے اخراجات اور ترسیلی وقت میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹلی کی جانب سے جنگی جہازوں کی یہ تعیناتی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے تاکہ خطے میں سیکیورٹی کی فضا قائم کی جا سکے اور تجارتی قافلوں کو ایک مؤثر دفاع فراہم کیا جا سکے۔ ماہرینِ معیشت اور دفاعی تجزیہ کاروں نے اٹلی کے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دیگر یورپی ممالک نے بھی اس روش پر عمل نہ کیا تو بحری تجارت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اٹلی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی مفادات اور عالمی اقتصادی استحکام کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کے انتظار کے بغیر خود حفاظتی اقدامات کرنے کی مکمل صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان جنگی جہازوں کی موجودگی سے خطے میں تخریب کار عناصر کے حوصلے پست ہوں گے اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک محفوظ ماحول میسر آئے گا۔