World
کولمبیا میں ڈرون حملے: 2026 کے آغاز میں تشدد میں تشویشناک اضافہ
کولمبیا میں سرکاری فورسز اور مسلح گروہوں کے مابین تنازعے کے دوران ڈرون حملوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کشیدگی اور حملوں کی زد میں عام شہری بھی آ رہے ہیں جو کہ ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے۔
لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا میں سکیورٹی کی صورتحال ایک بار پھر ابتر ہوتی جا رہی ہے جہاں سال 2026 کے آغاز سے ہی مسلح گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں میں دگنے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اور دفاعی رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں باغی گروہوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری رسہ کشی میں اب جدید ٹیکنالوجی یعنی ڈرون کا استعمال نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے روایتی جنگی خطرات میں بھی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو اس مسلح تنازعے کی زد میں آ کر براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ دیہی اور متنازع علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو فریقین کے مابین جاری اس تصادم میں شدید خطرات کا سامنا ہے اور معصوم شہری اس خطرناک کراس فائر کا نشانہ بن رہے ہیں، جس سے خطے میں ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
حکومتی حکام اور سکیورٹی اداروں نے مسلح گروہوں کے بڑھتے ہوئے فضائی اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ فوج کی جانب سے دفاعی اقدامات کو مزید سخت کرنے اور جدید کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کے حصول پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس نئے اور خطرناک حربے کا موثر توڑ نکالا جا سکے اور عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم صورتحال تاحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔