World
امریکی فوجی سابقہ اہلکار کو اسرائیل بانڈز احتجاج پر تنقید کا سامنا
امریکہ میں ایک سابق فوجی اہلکار کو پام بیچ کاؤنٹی کی جانب سے اسرائیل کے بانڈز میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے خلاف احتجاج کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ متعلقہ حکام اور ناقدین کی جانب سے اس سابقہ اہلکار پر الزام عائد کیا گیا کہ اس کا احتجاج اور رویہ فوجی وردی کی توہین ہے۔
امریکہ میں ایک دلچسپ اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک سابق فوجی اہلکار کو پام بیچ کاؤنٹی کی طرف سے اسرائیل کے بانڈز میں ایک ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کے خلاف پرامن احتجاج کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سابق فوجی نے کاؤنٹی کی جانب سے غیر ملکی بانڈز میں اتنی بڑی رقم کی سرمایہ کاری پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس پالیسی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔
اس احتجاج کے دوران، سابق فوجی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اس کا یہ اقدام اور رویہ اس فوجی وردی کے لیے 'شرمناک' ہے جسے وہ ماضی میں پہن چکا ہے۔ ناقدین اور کچھ مقامی حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کے سیاسی معاملات میں فوج کے سابقہ اہلکاروں کا سرگرم ہونا اور متنازع مالیاتی فیصلوں پر اس انداز میں احتجاج کرنا فوجی روایات کے منافی ہے۔ اس بیان کے بعد امریکہ کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا سابق فوجی اپنے بنیادی آئینی حقوق کے تحت کسی بھی پالیسی پر تنقید کر سکتے ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب، اس سابق فوجی اور اس کے حامیوں نے اس تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، خواہ وہ سابق فوجی ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک ارب ڈالر کے عوامی فنڈز کو کسی دوسری جگہ یا ملک کے بانڈز میں لگانے سے پہلے مقامی ٹیکس دہندگان اور شہریوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ اس معاملے نے اب ایک قومی بحث کی شکل اختیار کر لی ہے جہاں شہری آزادیوں اور فوجی وقار کے درمیان توازن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔