LIVE
Loading Breaking News...

شام کی اسرائیل کے خلاف سخت تنقید، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی

News Image
شام نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل خطے کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اجلاس کے دوران شامی اور ترکیہ کی افواج کے حوالے سے اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان شدید گرما گرم بحث بھی دیکھنے میں آئی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اہم اجلاس اس وقت شدید سفارتی کشیدگی کا میدان بن گیا جب شام کے نمائندے نے سخت الفاظ میں اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ شامی مؤقف کے مطابق خطے میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جارحانہ اقدامات براہ راست بین الاقوامی قوانین اور خطے کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، جن سے علاقائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اجلاس کے دوران ہونے والی اس بحث نے بین الاقوامی برادری کی توجہ ایک بار پھر خطے کے دیرینہ تنازعات اور پیچیدہ صورتحال کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ اس اجلاس کے دوران محض شام اور اسرائیل کا معاملہ ہی زیر بحث نہیں آیا بلکہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ترکیہ اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان شامی سرزمین پر غیر ملکی یا حریف فوجی دستوں کی موجودگی کے معاملے پر بھی گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور فریقین نے ایک دوسرے پر خطے کے حالات کو مزید خراب کرنے کا الزام عائد کیا۔ سفارتی مبصرین کے مطابق یہ بحث اس بات کی غماز ہے کہ شامی بحران نہ صرف اندرونی سطح پر بلکہ علاقائی طاقتوں کے درمیان بھی رسہ کشی کا ایک بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں عالمی طاقتوں کو بھی اس بات کا احساس دلایا گیا کہ شام کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت اور فوجی موجودگی خطے کو کسی بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں اور مندوبین نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ شامی حکومت کا اصرار ہے کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے ان اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے جو بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں، جبکہ دوسری طرف دیگر ممالک کے درمیان جاری یہ لفظی جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا حصول تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔