Politics
وائٹ ہاؤس نے ICE کے سربراہ کی نامزدگی واپس لے لی
وائٹ ہاؤس نے اوکلاہوما کے سابق ریاستی فوجی لانس شروئر کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کا سربراہ نامزد کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ یہ نامزدگی سینیٹ میں تعطل کا شکار ہو گئی تھی کیونکہ اس ادارے کو اپنے آپریشنز پر بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا تھا۔
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی جانب سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے لانس شروئر کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے سربراہ کے طور پر کی جانے والی نامزدگی کو باضابطہ طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں اہم حکومتی عہدوں پر تعیناتیوں کے معاملات زیر بحث ہیں۔
لانس شروئر، جو کہ اوکلاہوما کے سابق ریاستی فوجی ہیں، ان کی نامزدگی کو امریکی سینیٹ میں شدید سیاسی تعطل اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سینیٹ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کے درمیان اس تقرری پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو پا رہا تھا، جس کی وجہ سے یہ معاملہ طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا۔
دوسری جانب، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی ICE کو حالیہ مہینوں میں اپنے آپریشنز، پالیسیوں اور کارروائیوں کے حوالے سے سخت عوامی اور پارلیمانی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ادارے کے طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات نے اس تقرری کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نامزدگی کی واپسی سے واضح ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس موجودہ سیاسی حالات اور سینیٹ میں حائل رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی میں تبدیلی کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس اہم عہدے کے لیے کسی نئے نام کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے تاکہ ادارے کے انتظامی امور کو چلایا جا سکے۔