World
شامی صدر بشار الاسد کے سابق افسر کو امریکہ میں 60 سال قید
امریکہ کی ایک عدالت نے بشار الاسد کی حکومت کے دوران قیدیوں پر بہیمانہ تشدد کرنے والے ایک سابق شامی اہلکار کو ساٹھ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ فیصلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک اہم قانونی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ کی ایک عدالت نے شام کے معزول صدر بشار الاسد کے دورِ حکومت میں قیدیوں پر بہیمانہ تشدد کے الزامات ثابت ہونے پر ایک سابق شامی اہلکار کو ساٹھ سال قید کی سخت سزا سنا دی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے خلاف ایک بڑی قانونی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ استغاثہ کے مطابق مجرم شامی حکومت کے سکیورٹی اپریٹس کا حصہ تھا اور اس نے حراستی مراکز میں سیاسی قیدیوں اور عام شہریوں کو شدید جسمانی و ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ میں انسانی حقوق کے پامال کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور قانون کے کٹہرے میں ایسے عناصر کو لانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ شامی تنازعے کے دوران ہونے والے مظالم کے خلاف بین الاقوامی سطح پر تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی کا یہ عمل متاثرین کے لیے انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا بھر کے آمرانہ regimes کے کارندوں کو یہ سخت پیغام ملتا ہے کہ وہ اپنے جرائم سے بچ نہیں سکتے اور قانون کا ہاتھ ان تک بھی پہنچ سکتا ہے۔