World
تیونس میں شدید بارشیں اور سیلاب، نظام زندگی مفلوج
تیونس کے دارالحکومت میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے نظام زندگی شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد مقامات پر ٹریفک جام ہو گئی۔ اس صورتحال نے ملک میں نکاسی آب اور ہنگامی تیاریوں کے انتظامات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تیونس کے دارالحکومت تونس میں حالیہ دنوں میں ہونے والی شدید بارشوں نے ایک بار پھر شہری نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں نے سڑکوں کو تالاب میں تبدیل کر دیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔ ہزاروں موٹرسائیکل سوار اور کار ڈرائیور پانی میں پھنس کر رہ گئے ہیں جبکہ پیدل چلنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پانی کے زیادہ بہاؤ کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ بار بار آنے والے یہ سیلاب دارالحکومت کے باسیوں کے لیے ایک معمول کا عذاب بن چکے ہیں جو ہر بارش کے بعد شہر کی سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شہر کا موجودہ نکاسی آب کا نظام اس قدر پرانا اور فرسودہ ہو چکا ہے کہ وہ اتنی بڑی مقدار میں بارش کے پانی کو سنبھالنے سے قاصر ہے۔ بار بار پیدا ہونے والی اس نوعیت کی صورتحال نے تیونس کی بلدیاتی اور وفاقی حکومت کی جانب سے کی جانے والی فلڈ پریپیرڈنٹس یعنی سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا مستقل حل تلاش کرے تاکہ ہر سال بارشوں کے موسم میں عوام کو اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر اس بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں نقصانات کا دائرہ کار مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور نکاسی آب کے لیے دستیاب وسائل کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ جلد از جلد سڑکوں کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کیا جا سکے اور عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔