LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا حوثی تنازع اور سعودی عرب کی سلامتی پر مؤقف

News Image
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ باب المندب کے قریب صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور پاکستان حوثی تنازع کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت سے چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ فعال ہے اور اس کے تحت کچھ فورسز پہلے ہی تعینات کی جا چکی ہیں۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر کے اہم سمندری گزرگاہ باب المندب کے ارد گرد کی صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے وعدوں پر قائم ہے، تاہم حوثی تنازع کے حل کے لیے عسکری دباؤ کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ چکی ہے۔ حوثی گروپ یمن کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کر رہا ہے اور سعودی سرزمین پر میزائل و ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے جواب میں ریاض نے بھی فضائی حملے تیز کر دیے ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر بحری جہازوں کی نقل و حمل اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشمگی کا حصہ بننے کے بجائے دشمنی کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کو بھی اپنی کارروائیاں بند کر دینا ہوں گی اور اس سلسلے میں اسلام آباد کا مؤقف امن اور استحکام کے حصول پر مرکوز ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے تصدیق کی کہ ستمبر 2025 میں طے پانے والا اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) مکمل طور پر فعال ہے اور اس کے تحت کچھ عسکری دستوں کی تعیناتی بھی عمل میں آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کی بھی توثیق کی جس میں ترکیہ بھی شامل ہے اور یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے آپریشنل راز داری کا حوالہ دیتے ہوئے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کابل کو اس بات کی تصدیق کرنا ہو گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں چین، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کوششیں اس لیے بارآور ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ کابل نے مطلوبہ تعاون فراہم کرنے سے گریز کیا۔ پاکستان تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے لیکن افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔