Business
پاکستان میں ایل این جی کا بحران اور توانائی کے مستقبل کے چیلنجز
آب ہرمز کی بندش اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک اس بحران سے نمٹنے کے لیے قابل تجدید توانائی، کوئلے اور طویل مدتی گیس ذخائر پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں پیش آنے والی تبدیلیوں اور آب ہرمز کی بندش کے باعث پاکستان انم گنے چنے ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی سپلائی میں خلل کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ گیس ٹیک کانفرنسز کی حالیہ رپورٹ 'دی آؤٹ لک فار گیس اینڈ ایل این جی مارکیٹس ان ایشیا' کے مطابق، قطر اور متحدہ عرب امارات مل کر پاکستان کو اس کی ضرورت کا تقریباً 99 فیصد ایل این جی فراہم کرتے ہیں، جو کہ بنیادی طور پر بجلی کی پیداوار، کھاد کے کارخانوں اور صنعتی شعبے میں استعمال ہوتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایل این جی ملک کی کل گیس سپلائی کا تقریباً 30 فیصد حصہ بنتی ہے، جس کی وجہ سے اس شعبے میں کسی بھی قسم کا تعطل ملکی معیشت پر شدید اثرات مرتب کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور بحیرہ عرب کے خطے میں جغرافیائی سیاسی تنازعات نے عالمی توانائی کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس نے ایل این جی مارکیٹس کی حساسیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اپنے گھریلو توانائی اور بجلی کے نظام کو مستقبل کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے قابل تجدید ذرائع پر توجہ دینا ہوگی۔ اس میں تیزی سے تعمیر ہونے والے سولر پارکس، ونڈ فارمز، کمرشل روہف ٹاپ سولر اور انرجی سٹوریج کے منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ طویل مدتی بنیادی ڈھانچے بالخصوص گیس کے ذخائر اور بجلی کی پیداوار کے نظام کو زیادہ لچکدار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
توانائی کے اس بحران کے دوران پاکستان کی یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) نے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ گیس کے طویل مدتی معاہدوں، گیس سٹوریج اور بین الاقوامی منڈیوں میں تقسیم کے حوالے سے اہم بات چیت کی ہے۔ یو جی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیاث عبداللہ پراچہ نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران عالمی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں گیس سٹوریج کی سہولیات کی تعمیر اور طویل مدتی ایل این جی معاہدوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فورم پر پاکستان میں گیس کے شعبے میں اصلاحات اور نجی شعبے کے لیے مارکیٹ کھولنے کے اقدامات کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔
موجودہ بحران کے باعث حکومت کو بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شپنگ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئلے، پن بجلی اور جوہری توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی انحصار بڑھانا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان نے بروقت طویل مدتی بنیادوں پر حکمت عملی طے نہ کی تو قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ایندھن کی غیر یقینی صورتحال صنعتی ترقی اور عام شہریوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ لہذا، حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ایسے عملی اقدامات کرنا ہوں گے جو ملک کو اس طرح کے بیرونی توانائی کے جھٹکوں سے مستقل طور پر محفوظ بنا سکیں۔