Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: کمیشن کا پہلے تفتیشی افسر پر سخت اقدام
میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے پہلے تفتیشی افسر کی غفلت اور عدم توجہی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے آبزرو کیا کہ تفتیشی افسر نے کیس میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا اور اسے پولیس سروس کے لیے نااہل قرار دیا۔
کراچی میں میر رضا علی قتل کیس کے حالات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کے روبرو جمعرات کو کارروائی کے دوران پہلے تفتیشی افسر (آئی او) کی ناقص کارکردگی کا پول کھل گیا۔ کمیشن کی سربراہی کرنے والے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ تفتیشی افسر نے اس سنگین معاملے میں کوئی خاطر خواہ محنت نہیں کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے میں مکمل غفلت برتی۔ کمیشن نے نوٹ کیا کہ زیادہ تر کاغذی کارروائی اور طریقہ کار سابقہ تفتیشی افسر کے بجائے دیگر پولیس اہلکاروں نے انجام دیا، جن میں انکوائری رپورٹ تیار کرنا، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنا اور مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کرنا شامل ہے۔
یک رکنی کمیشن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پولیس نے مبینہ طور پر غلط طریقے سے پوچھ گچھ کی جبکہ مجموعی طور پر 33 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جن میں سے پہلے تفتیشی افسر نے صرف 10 افراد سے تفتیش کی تھی۔ اس کے علاوہ پوسٹ مارٹم کے بعد حاصل کیے جانے والے سیمپلز بھی کئی روز تک غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں رکھے۔ سماعت کے دوران جب سابق تفتیشی افسر انسپکٹر شبیر احمد لغاری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تو عدالت نے ان کے جوابات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انسپکٹر شبیر احمد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور خون آلود گملہ بھی برآمد ہوا لیکن انہوں نے اس کی ضبطی اور معائنے کا میمو تیار نہیں کیا تھا۔
جسٹس عمر سیال نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ جائے وقوعہ کو بروقت کیوں محفوظ نہیں بنایا گیا اور کیوں اس معاملے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔ کمیشن کا مشاہدہ تھا کہ پہلے تفتیشی افسر نے مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں ایک فیصد بھی کام نہیں کیا اور ان کا رویہ پولیس فورس کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ ایسے افسران محکمہ پولیس کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ مزید برآں، کمیشن نے مقتول کے کاروباری شراکت دار احمد بھردے کو بھی طلب کیا جنہوں نے صحافیوں کو بیانات دیے تھے، اور ہدایت کی کہ وہ مقتول کے اہل خانہ سے نجی طور پر ملاقات کریں اور ان کے تمام سوالات کے جوابات حلف نامے کے ساتھ کمیشن میں جمع کروائیں۔
مقدمے کے دوران اعلیٰ پولیس حکام کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کے پیش نظر کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کراچی پولیس چیف آزاد خان اور ڈی آئی جی عامر فاروقی کو سوال نامے ارسال کیے جائیں گے۔ مدعی کے وکیل جبران ناصر کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں اپنے سوالات پیر تک جمع کرا دیں۔ کمیشن کا یہ سخت مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ میر رضا علی قتل کیس کے تمام پہلوؤں کا شفاف جائزہ لیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔