World
سعودی تیل پر حوثی حملے، عالمی منڈی میں قیمتیں اور متبادل روٹس
حالیہ حوثی حملوں سے سعودی عرب کی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اب کم ہو گئے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سعودی عرب متبادل روٹس اور پائپ لائن کی بحالی کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے تاکہ رسد کا تسلسل برقرار رہے۔
سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ ہفتے کے دوران ہونے والے حوثی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے خدشات اب بتدریج کم ہو رہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان حملوں کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ سعودی تیل کی سپلائی میں تعطل کے بارے میں سرمایہ کاروں کے خوف کا زائل ہونا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری اور موثر اقدامات نے مارکیٹ کے خدشات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے تیل کی نقل و حمل کے لیے متبادل راستوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ ینبوع سے لے کر صحار تک تیل کے متبادل روٹس کی ٹریکنگ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ، بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی انتظامیہ نے ایک اہم تیل پائپ لائن کے بڑے حصے کو چند ہی دنوں میں دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس سے دنیا بھر میں توانائی کے ماہرین کو ایک مثبت پیغام ملا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے میں تناؤ اور حوثی حملے ایک مستقل چیلنج بنے ہوئے ہیں، تاہم سعودی عرب کی مضبوط انفراسٹرکچر مینجمنٹ اور ایمرجنسی پلاننگ نے مارکیٹ کو بڑے بحچران سے بچا لیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی منڈی نے ان حملوں کے طویل المدتی اثرات کو زیادہ خطرناک نہیں سمجھا۔ مستقبل قریب میں سعودی عرب کی جانب سے پائپ لائن کی مکمل بحالی اور متبادل روٹس کے فعال ہونے سے توانائی کی سپلائی مزید مستحکم ہو جائے گی۔