World
یمن میں شدید جھڑپیں: حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے تصادم میں 68 ہلاک
یمن میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جہاں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم 68 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ فریقین کے مابین جنگ بندی کے باوجود ہونے والی اس خونریز تصادم نے خطے میں امن کی کوششوں کو سخت دھچکا لگایا ہے۔
یمن کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے درمیان ہونے والی خونریز لڑائی میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان جھڑپوں نے جنگ زدہ ملک میں ایک بار پھر انسانی بحرین کے شدت اختیار کرنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے اور عالمی برادری میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان کئی محاذوں پر شدید گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری اس تنازع نے پہلے ہی لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے اور لاکھوں لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔ حالیہ پرتشدد واقعات نے امن مذاکرات کی تمام امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کیونکہ فریقین ایک بار پھر میدان جنگ میں آمنے سامنے آ چکے ہیں اور جنگ بندی کے معاہدے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تازہ ترین خونریزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر فائرنگ بند کرنے اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ تنازع پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یمنی عوام جو پہلے ہی برسوں کی خانہ جنگی کی وجہ سے بدترین مصائب کا شکار ہیں، اس نئی لہر سے مزید بے حال ہو چکے ہیں۔